ابنا: سال دو ہزار بارہ گزشتہ سالوں کی مانند پاکستان کے لیے اچھا ثابت نہ ہوا۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک یہ ملک مسلسل سازشوں کا شکار ہے۔ حکمران اقتدار کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں اور دشمن ان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر معصوم عوام کے خون کی ہولی کھیلنے میں تیزی سے سرگرم عمل ہے۔ بیرونی طاقت ڈرون حملوں کی صورت میں اور اندرونی دشمن ٹارگٹ کلنگ، خودکش دھماکوں کی شکل میں پاکستان میں خون کا ایک بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ یہ خون چاہے بلوچستان کے مظلوم عوام کاہو یا گلگت، کراچی کے پرامن لوگوں کا۔ وطن عزیز میں جاری بحرانوں میں سب سے تکلیف دہ بحران کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور آئے روز فائرنگ کے واقعات ہیں۔
کراچی کا ایک مقامی اخبار اپنی اشاعت میں لکھتا ہے کہ سندھ پولیس نے ہوم سیکرٹری سندھ اور وفاقی وزیر داخلہ کو ایک تفصیلی رپورٹ ارسال کی جس میں کہا گیا ہے کہ کالعدم مذہبی تنظیموں نے سندھ بھر میں خفیہ یا سرعام سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے سندھ بھر کی 94 مساجد کو اپنی آماجگاہ بنایا ہے جہاں سے وہ دہشت گردی، تخریب کاری اور خودکش حملوں کے لیے لوگوں کو تیار کرکے بھیجتے ہیں۔ ان میں کراچی کی 45، حیدرآباد کی 19 اور سکھر کی 30 مساجد شامل ہیں۔
جہاں تک موجودہ حکومت کی کارکردگی کا سوال ہے تو وہ کراچی میں قیام امن بحال کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ایک ہفتے کے دوران 40 سے زائد افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا دیا گیا۔ 60 سے زائد گاڑیاں جلا دی گئیں۔ اندھا دھند چلنے والی گولیوں نے نہ جانے کتنے بےقصور افراد کی زندگیوں کو نگل لیا ان میں سے کتنے ہی اپنے گھر کے واحد کفیل تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2008ء میں تقریباً 100 افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جبکہ سال 2009ء میں انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پہلے 6ماہ میں ایک سو سیاسی کارکن ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جبکہ مجموعی طور پر شہر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 9 سو سے زیادہ تھی۔ اسی کمیشن کی ایک اور رپورٹ کے مطابق 2010ء میں کراچی میں صرف چار ماہ کے دوران 69 افراد ہلاک ہوئے۔ سال 2011ء میں تیزی کے ساتھ یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا، عوام بےچاری آئے روز ہلاکتوں کے خلاف کبھی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کرتی ہے تو کبھی گورنر ہاﺅس کے سامنے دھرنا دے کر اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھاتی ہے، وقتی طور پر حکومت کے ٹھیکے دار ان کی شرائط مان کر ان کو گھروں کو واپس بھیج کر گویا اپنا فرض منصبی ادا کر دیتے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت وقت نے گویا کراچی کے شہریوں کو دہشت گردوں کے سپرد کر دیا ہے۔ سیاسی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ مذہبی دہشت گرد بھی اپنا کام دکھانے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شیعوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق رکن سندھ اسمبلی محمد عثمان کینیڈی کا کہنا ہے کہ کراچی کو بچانے کے لیے کراچی میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا کر دس سال تک انتخابات ملتوی اور شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور کراچی کو ایک ایسے شخص سے واسطہ پڑا ہے جو نعرہ تو مفاہمت کا لگا رہا ہے لیکن حقیقتاً اس کی پوری سیاست منافقت کے گرد گھوم رہی ہے۔ امن دشمن عناصر کو کراچی کا امن قبول نہیں یا ان کو پاکستان میں ایک خاص فرقہ ہی قبول نہیں۔ اخبارات، میڈیا، خبروں میں سیاسی کارکنوں کے قتل اور تشدد کو تو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے لیکن فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے ٹارگٹ کلنگ کا شکار بننے والے افراد کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا۔
مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی بالخصوص چلاس، کوہستان اور کوئٹہ کے واقعات کے خلاف ملک کے قانون ساز ادارے پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے ہزاروں افراد کے دھرنے کو میڈیا نے ایک معمولی سی خبر کے طور پر بھی نہیں چلایا۔ بےگناہ انسانوں کا خون صرف مفاد پرست سیاست کرنے والے سیاست دانوں کی گردن پر ہی نہیں بلکہ اس آزاد میڈیا پر بھی ہے جو کسی سیاسی وزیر کے بیٹے کی شادی کی تو لائیوکوریج دیتا ہے لیکن کسی بےگناہ شہید کے احتجاجی دھرنے کو ایک چھوٹی سی خبر کے طور پر بھی نہیں چلاتا کہ کہیں یہ عوام اپنے خون کے حساب کے لیے اٹھ کھڑے نہ ہوں۔ ابھی گزشتہ دنوں ہی وزیر داخلہ نے کراچی میں امن کے لیے سیاسی جماعتوں کو 24 گھنٹوں میں جھنڈے اتارنے کا حکم دیا، رینجرز، پولیس اور ایف سی کو بلاتفریق کارروائی کی ہدایت کی لیکن ہوا کیا؟ کراچی میں بدستور ٹارگنٹ کلنگ جاری ہے۔
حکومت اور اس کے اتحادی ہیں کہ عوام کو بیوقوف بنانے سے باز نہیں آتے۔ کراچی میں فوج کو بلانے کی بات تو سب کرتے ہیں لیکن عملاً کوئی بھی اس کے لیے اقدامات کرنے پر آمادہ نہیں کیونکہ اگر متحدہ کے دہشت گردوں کے خلف کارروائی کی جائے تو وہ ناراض ہو کر مزید امن و امان کو برباد کرتے ہیں اگر ANP کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے تو وہ ہنگامہ آرائی شروع کر دیتے ہیں اور اس ساری صورت حال کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری کہتے ہیں کہ کچھ کالعدم تنظیمیں جن پر حساس اداروں نے پابندی لگائی تھی نام بدل کر کام کر رہی ہیں۔ انھیں کام سے روکا جائے کراچی کا امن ایک سازش کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے۔ کراچی میں حالیہ فسادات قاتل کا پتہ چلنے کے بعد نہیں ہونے چاہیے تھے کراچی میں امن اسی صورت میں ہو گا جب پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر وہاں آپریشن کیا جائے۔
کراچی کی صورت حال پر گورنر ہاﺅس سندھ میں پیپلز پارٹی ایم کیو ایم اور اے این پی کے راہنماﺅں کا اجلاس بھی ہوا جس میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا تفریق کارروائی پر اتفاق کیا گیا۔ راہنماﺅں نے یقین دلایا کہ وہ کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لیے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے۔ ایک طرف حکومت کے ٹھیکے دار امن کے قیام کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف عدل و انصاف کرنے والے انتہائی خطرناک کالعدم ملک دشمن سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں کو باعزت بری کرکے پاکستان کی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب تحریر کر رہے ہیں۔
........
/169